توبہ کا مفہوم اور اس کے ارکان:توبہ مفہوم ارکان
آیت میں توبہ کا لفظ ہے ۔ یہ لفظ جب اللہ تعالٰی کیلئے آئے تو اس کا معنیٰ اللہ تعالٰی کا اپنی رحمت کے ساتھ بندے پر رجوع کرنا ہے یا بندے کی توبہ قبول کرنا ہے اور یہ لفظ جب بندے کیلئے آئے تو دوسرے مفہوم میں ہے ۔توبہ کا اصل مفہوم اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ امام نووی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام کا خلاصہ ہے کہ توبہ کی تین شرائط ہیں : (۱) گناہ سے رک جانا ،(۲) گناہ پر شرمندہ ہونا، (۳) گناہ کو چھوڑ دینے کا پختہ ارادہ کرنا۔ اگر گناہ کی تلافی اور تدارک ہو سکتا ہو تو وہ بھی ضروری ہے۔ (ریاض الصالحین، باب التوبۃ، ص۵) جیسے اگر کسی نے نماز یں چھوڑی ہوں تواس کی توبہ کیلئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے ۔ یونہی کسی نے دوسرے کا مال چوری یا غصب یا رشوت کے طور پر لیا ہے تو توبہ کیلئے مال واپس کرنا بھی ضروری ہے
ابنِ قیم v فر ماتے ہیں: ’’توبہ انسان کی پہلی، درمیانی اور آخری منزل ہے، بندہ سالک اُسے کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتا، مدت تک توبہ اور رجوع کی حالت میں رہتا ہے۔ اگر ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر اختیار کرتا ہے تو توبہ اس کا رفیق ہوتا ہے جہا ں وہ جائے، پس توبہ بندہ کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی، بلکہ ابتدا کی طرح موت کے وقت اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘( مدارج السالکین، صفحہ: ۱۴۱) توبہ دل کا نور ہے،نفس کی پاکیزگی ہے، توبہ انسان کو اس حقیقی زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ: اے غافل انسان !آؤ! قبل اس کے کہ زندگی کا قافلہ کوچ کر جائے اور موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آ موجود ہو،توبہ کرنے والوں کی ہم نشینی اختیار کر لیں،کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ قبر محض ایک گڑھا نہیں،بلکہ جنت کے باغو ں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ (کما رواہ الترمذي في سننہ عن أبي ھریرۃ ؓ،کتاب صفۃ القیامۃ:۴/۶۳۹-۶۴۰،رقم الحدیث : ۲۴۶۰ ) پس جس کی ابتدا توبہ اور رجوع سے روشن اور چمکدار ہوگی، اس کی انتہا بھی نور مغفرت سے منور ہوگی،جو اللہ کی طرف رجوع اور توبہ میں اخلاص اور سچائی کو اختیار کر ے گا، اللہ تعالیٰ اُسے خاتمہ بالخیر کی تو فیق عطا فرمائیں گے۔ توبہ سب کے لیے توبہ صرف گنہگاروں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ سب ایمان والوں کو توبہ کا حکم دیا گیا ہے، اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے : ’’وَتُوْبُوْا إِلٰی اللّٰہِ جَمِیْعًا أَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘۔ (النور :۳۱) ترجمہ:’’اورتوبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمانوالو! تاکہ تم بھلائی پائو‘‘۔(ترجمہ از شیخ الہندؒ) صحیح مسلم میں حضرت مزنی q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا :اے لوگو! گناہوں سے باز آجاؤاور اللہ کی طرف رجوع کر لو اور میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، رقم:۷۰۳۴) غور فرمائیں کہ جب اللہ تعالیٰ کے آخری نبی a جو اولین وآخرین کے سر دار ہیں، بخشے بخشائے ہوئے ہیں، تمام جنتیوں کے سردار ہیں، مقامِ محمود کے مالک ہیں،وہ ایک دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ واستغفار کے عمل کو ا ختیار کرتے ہیںتو ہم گنہگار اور خطا کار امیتوں کو کس قدر توبہ واستغفار کا اور اللہ کی طرف رجوع کا اہتمام کر نا چاہیے!۔ گناہوں سے فوری توبہ کی ضرورت آج کے اس پرآشوب ماحول میں تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ بغیر کسی استثنا کے فوری توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ موت سے پہلے موقع ہے، اسے ضائع نہ کریں،اللہ رحیم و کریم بھی اپنے بندوں کی توبہ کا انتظار فرماتے ہیں اور ان کی توبہ کو قبول کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بندہ توبہ کرے اور وہ قبول فرمائے،چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے: ’’وَاللّٰہُ یُرِیْدُ أَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْْکُمْ‘‘۔ (النسائ:۲۷)
ترجمہ:’’اوراللہ چاہتا ہے کہ تم پر متوجہ ہوئے‘‘۔ (ترجمہ از: شیخ الہندؒ) گناہ کرکے توبہ نہ کرنے کا انجام یہ یاد رکھیں کہ گناہ کا صدور ہونا ایمان کے منافی نہیں۔ ایمان والے سوائے انبیا o کے کوئی بھی معصوم نہیں اورعام انسانوں سے گناہ کا ہو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ گناہ کا ہوجانا اور بھول چوک تو انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ یہ اتنا خطر ناک اور ہلاکت خیز نہیں،جتنا گناہ ہوجانے کے بعد توبہ نہ کرنا اور اس سے غفلت اختیار کرنا ہلاکت آمیز اور تباہ کن ہے۔ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا : ’’والذی نفسی بیدہ لو لم تذنبوا لذھب اللّٰہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیستغفرون اللّٰہ فیغفر لھم‘‘۔ (صحیح مسلم،باب سقوط الذنوب بالاستغفار، رقم :۷۱۴۱ ) ترجمہ :’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،اگر تم گناہوں کا ارتکاب نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم کر کے ایسی قوم کو لے آئیں گے جو گناہ کرے گی اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے گی تو اللہ ان کی مغفرت فرما دیں گے۔ سنن ِترمذی اور سننِ ابنِ ماجہ میں حضرت انس q سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا: ’’کل بني آدم خطاء وخیر الخطائین التوابون ‘‘۔(سنن الترمذي، کتاب صفۃ القیامۃ، رقم :۲۴۹۹) ترجمہ:’’ تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں ‘‘۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ بندہ کا توبہ کرنااور اللہ کی طرف رجوع کر ناانتہائی ضروی ہے، ورنہ اسے اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے شمار کیا جائے گا، امام مجاہدv فرماتے ہیں: ’’من لم یتب إذا أصبح وإذا أمسٰی فہو من الظالمین‘‘۔ ترجمہ:’’جو شخص (ہر روز) صبح و شام توبہ نہیں کرتاوہ ظالمین میں سے ہے‘‘۔(تفسیر الثعلبي :۱/۱۱۹) طلق بن حبیب v فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق کی ادائیگی بہت بڑی بات ہے، مگر تم توبہ کی حالت میں صبح و شام کرو ‘‘۔(تفسیر ابن کثیر ؒ :۸/۷۸،التفسیر المنیر :۱۳/۲۵۶) ابنِ رجبv فرماتےہیں :’’جس نے بغیر توبہ کیے صبح و شام کی و ہ خطرے میں ہے، اُسے یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں بغیر توبہ کے اللہ سے ملاقات نہ ہوجائے اور اللہ اس کاشمار ظالموں میں نہ کردیں‘‘۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ‘‘۔(الحجرات:۱۱) ۔۔۔۔’’ اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بے انصاف‘‘۔ (لطائف المعارف،ص:۴۵۸) ابن قیم vنے لکھا ہے کہ ا للہ تعالیٰ نے آیت ’’مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ‘‘ میں بندوں کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں :۱:…توبہ کرنے والے۔ ۲:… ظالم، اور یقیناًان دو کے علاوہ کوئی تیسری قسم نہیں،اور توبہ نہ کرنے والوں کو اللہ نے ظالم شمار کیا ہے۔(مدارج السالکین،صفحہ:۱۴۲) معصیت کے نقصانات حضرت ابنِ قیم vفرماتے ہیں کہ بندے کو چاہیے کہ اسے معلوم ہو کہ گناہ و معاصی نقصان دہ اور ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں،جس طرح مختلف قسم کے زہر سے بدن انسانی متأ ثر ہوتا ہے اور ہلاکت کا باعث بنتا ہے، ایسے ہی گناہ سے انسانی دل متأ ثر ہو تا ہے۔ دنیا وآخرت میں جتنے شرور و بیماریاں ہیں، ان سب کا سبب صرف گناہ اور معاصی ہیں۔(الداء والدوائ،ص:۶۰) کسی اللہ والے کا قول ہے: ’’لاتنظر إلٰی صغر الخطیئۃ ولٰکن انظر إلٰی مَنْ عصیتَ ‘‘۔ ترجمہ:’’ تم گناہ کے چھوٹے ہونے کو مت دیکھو، بلکہ تم جس کی معصیت کر رہے ہو اس کی عظمت کوپیش نظر رکھو‘‘۔ ( أخرجہ أحمد في الزھد، ص:۴۶۰، تھذیب الداء و الدواء : ۱/۵۴) حضرت بشرv فرماتے ہیں: ’’لو تفکر النّاس في عظمۃ اللّٰہ ما عصوا اللّٰہَ عزّ و جلّ ‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر ؒ :۲/۱۸۵) ترجمہ:’’ اگر اللہ کی عظمت لوگوں کے پیشِ نظر رہے تو وہ اللہ کی نا فرمانی سے باز آجائیں گے ‘‘۔ توبہ کی تعریف گناہوں اور معصیت سے جس توبہ کا ہم سے بار بار مطالبہ کیا گیا ہے، اس کی حقیقت سے واقف ہونا انتہائی ضروری ہے۔اگر توبہ کیحقیقت اور مراتب سچی توبہ کے لیے علما نے کچھ شرائط ذکر کی ہیں،چنانچہ امام قرطبی v فرماتے ہیں : ’’ھی الندم بالقلب، وترک المعصیۃ فی الحال، و العزم علٰی ألا یعود إلٰی مثلھا، وأن یکون ذلک حیائً من اللّٰہ‘‘۔ (تفسیر القرطبی، سورۃ النساء :۵/۹۱) ترجمہ:’’(یقیناً سچی توبہ ) وہ یہ ہے کہ (اس میں یہ درج ذیل چیزیں پائی جائیں) : ۱:… گناہ پر دل سے ندامت ہو، ۲:…فوری طور پر گناہ کو ترک کرے، ۳:…اور پکا ارادہ کرے کہ دوبارہ اس معصیت کا ارتکاب نہیں کرے گا، ۴:…اور یہ سب کچھ ’’اللہ کی حیا‘‘کی وجہ سے ہو ‘‘۔ مراتب ِ توبہ توبہ کے تین مراتب ہیں :۱:…توبہ کا سب سے بڑا اور لازمی درجہ ترکِ کفراور قبول ایمان ہے۔۲:… اس کے بعد دوسرا بڑا درجہ کبائر(بڑے گناہوں ) سے توبہ کا ہے۔۳:…تیسرا مرتبہ صغیرہ گناہوں سے توبہ کا ہے۔ توبہ کی اقسام توبہ کی دو قسمیں ہیں:۱:…واجب ، ۲:…مستحب۔ کسی بھی مامور کے ترک اورمحظور و ممنوع کام کے کرنے سے توبہ کرنا فی الفور واجب اور ضروری ہے اور یہ تمام مکلف اہلِ ایمان پر واجب ہے۔ مستحبات کے ترک اور مکروہات کے ارتکاب سے توبہ کرنا مستحب ہے۔ (جامع الرسائل لابن تیمیۃؒ،رسالۃ فی التوبۃ :۱/۲۲۷) سچی اور صحیح توبہ کی شرائط ۱:…فوری طور سے معصیت وگناہ سے باز آنا۔ ۲:…تمام سابقہ گناہوں پر دل سے ندامت ہو، حضور a کا ارشاد ہے :’’الندم التوبۃ‘‘، یعنی ندامت توبہ ہے۔ (مسند أبی یعلی، مسند عبد اللہ بن مسعودؓ،رقم :۴۹۶۹،۵۰۸۱، ۵۱۲۹)ندامت ہی توبہ کا رکنِ اعظم ہے۔ ۳:…دوبارہ گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم۔ (تفسیر السراج المنیر:۲/۶۸) ۴:…لوگوں کے حقوق کی ادائیگی،یا ان سے معاف کرانا۔(تفسیرابن کثیر:۸/۱۶۹، تفسیر الخازن:۷/۱۲۲) ریاض الصالحین،صفحہ:۱۲میں امام نووی vنے لکھا ہے کہ اگر معصیت کا تعلق آدمی سے ہو تو اس کے لیے چار شرائط ہیں، تین وہ جن کا اوپر تذکرہ ہوا اور چوتھی یہ کہ لوگوں کے حقوق سے خود کو بری کرے، اگر کسی کا مال یا اس طرح کی کوئی اور چیز لی ہے تو واپس لوٹا دے، اگر کسی پر جھوٹی تہمت وغیرہ لگائی ہے تواس سے معافی طلب کرے یا اس کو ’’حد‘‘ پر قدرت دے اور اگر کسی کی غیبت کی ہے تو اس کی بھی معافی مانگے۔ ۵:… توبہ نصوح اور سچی توبہ کی پانچویں شرط یہ ہے کہ بندہ اخلاص کو اختیار کرے، یعنی اللہ کے عذاب کے خوف و ڈراور اس کی مغفرت و ثواب کی امید پر گناہوں کو ترک کرے۔ ۶:… چھٹی شرط یہ ہے کہ توبہ کا عمل ’’توبہ کے وقت ‘‘ میں ہو۔ توبہ نصوح کسے کہتے ہیں؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کو’’ توبہ نصوح ‘‘کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا تُوْبُوْا إِلٰی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا‘‘۔ (التحریم:۸) ترجمہ:’’ اے ایمان والو! توبہ کرواللہ کی طرف صاف دل کی توبہ‘‘۔(ترجمہ ازشیخ الہندؒ) توبہ نصوح سے کیا مراد ہے؟ آئیے !صحابہ کرامs،تابعینؒ،سلف صالحینؒ اور مفسرین کرامw کے اقوال کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں،’’ نصوحًا ‘‘ النصحسے ماخوذ ہے،عربی میں سلائی کرنے کو کہتے ہیں، گویا توبہ گناہوں کی پھٹن کو رفو کر کے ایسے ختم کر دیتی ہے، جیسا کہ درزی اوررفو گرکسی پھٹے ہوئے کپڑے کو سلائی و رفو کر کے اس کی پھٹن کوبالکل ختم کر دیتا ہے۔ توبہ نصوح کو سچی، خالص اور محکم و پختہ توبہ بھی کہا جاتا ہے۔’’نُصوحًا‘کو نون کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے،ایسی توبہ کو کہا جاتا ہے کہ جس سے آدمی نصیحت حاصل کر ے۔ (تفسیر السمعانی:۵/۴۷۷) امام فراء vفرماتے ہیںکہ آیت میں ’’نصوحًا ‘‘توبہ کی صفت ہے،معنی یہ ہے کہ وہ توبہ اپنے کرنے والے کو اس بات کی فہمائش کرے کہ ان گناہوں کی طرف لوٹنے کو ترک کرے جن سے اس نے توبہ کی ہے،اور وہ ایسی سچی اور نصیحت آمیز توبہ ہے کہ کرنے والے اپنے نفس کو گناہوںکی گندگی سے پاک کرتے ہیں۔(تفسیر الرازی،سورۃ التحریم:۱/۴۴۹۰) امام قرطبی v نے لکھا ہے کہ اصلِ توبہ نصوح خالص ہوناہے،ملاوٹ سے پاک شہد کو’’ عسل ناصح‘‘ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ ’’نصاحۃ ‘‘بمعنی سلائی سے ماخوذ ہے،اس سے اخذ کی دو وجہیں ہیں:۱:…اس توبہ نے اس کی اطاعت الٰہی کو محکم و پختہ کیا ہے، جیسا کہ درزی سلائی سے کپڑے کو محکم و پختہ کردیتا ہے،۲:… اس توبہ نے اسے اللہ کے اولیاء کے ساتھ جوڑا، جمع کیا اور ملایا ہے،جیسا کہ درزی سلائی کے ذریعہ کپڑے کے مختلف حصوں کو آپس میں ملا تا اور جوڑ دیتا ہے۔ (تفسیر القرطبی:۱۸/۱۹۹) حضرت معاذ qکے سوال پر حضور اکرم a نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ بندہ اپنے کیے ہوئے گناہ سے نادم ہو کر اللہ کی طرف یوں بھاگے کہ دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹے، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے۔ (الدر المنثور:۶/۲۸۴) حضرت عمرؓ،ابی بن کعبؓ اور معاذs فرماتے ہیں :’’التوبۃ النصوح أن یتوب ثم لا یعود إلی الذنب کما لایعود اللبن إلی الضرع ‘‘۔۔۔۔۔’’ توبہ نصوح یہ ہے کہ وہ توبہ کرے اور پھر اس گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے،جس طرح دودھ تھنوں میں لوٹ کر واپس نہیں جاتا۔(تفسیر القرطبی،سورۃ التحریم:۱۸/۱۹۷) حضرت حسنv فرماتے ہیں کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ بندہ اپنی سابقہ گناہ آلودزندگی پرنادم ہو، دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹنے کے عزم کے ساتھ۔کلبی v نے کہا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ زبان سے استغفار کرے،دل سے ندامت اختیار کرے اور اپنے بدن کو قابو میں رکھے۔ قتادہ v نے کہا کہ سچی نصیحت آمیز توبہ کو نصوح کہتے ہیں۔(تفسیر الخازن:۷/۱۲۱) سعید بن جبیرv فرماتے ہیں کہ: ’’نصوح‘‘ مقبول توبہ کو کہتے ہیں، اور توبہ اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی ہے، جب تک اس میں تین چیزیں نہ پائی جائیں: ۱:…عدم قبولیت کا خوف ہو۔ ۲:… قبولیت کی امیدہو۔ ۳:…طاعات پر ثابت قدمی ہو۔ محمد بن سعیدقرظی v کہتے ہیںکہ: توبہ نصوح چار چیزوںکے پائے جانے کا نام ہے: ۱:… زبان سے استغفار کرنا۔۲:… بدن سے گناہوں کواکھیڑ پھینکنا۔۳:…دل سے دوبارہ لوٹنے کے ترک کا اظہار کرنا۔ حضرت ابن عباسr سے بھی یہی منقول ہے۔ (البحرالمدید:۸/۱۲۷)۔ ۴:…برے دوستوں کی صحبت سے دوری اختیار کرنا۔۵:…ذون النون v نے کہا: اہل خیر کی صحبت اختیارکرنا۔(تفسیر الخازن:۷/۱۲۲) سفیان ثوری v نے فرمایا کہ چار چیزیں توبہ نصوح کی علامت ہیں:۱:… ’’القلّۃ‘‘یعنی گناہوں کو زائل کرنا۔۲:… ’’العلّۃ‘‘یعنی اللہ کی یاد سے دل بہلانایاتشویش میں مبتلا ہونا یعنی نادم ہونا۔ ۳:… ’’الذلّۃ‘‘یعنی انکساری اور تابعداری اختیار کرنا۔۴:…’ ’’الغربۃ‘‘یعنی گناہوں سے دوری و جدائی اختیار کرنا۔ فضیل بن عیاض v نے فرمایا کہ:( توبہ کے بعد)گناہ اس کی آنکھوں میں کھٹکے، گویا وہ اُسے برابر دشمنی کی نگاہ سے دیکھ رہا ہو۔ ابوبکر واسطی v نے فرمایا :توبہ نصوح (خالص) توبہ کا نام ہے، نہ کہ عقد معاوضہ کا،اس لیے کہ جس نے دنیا میں گناہ کیا اپنے نفس کی سہولت اور مفاد کی خاطر اور پھر توبہ کی اسی نفس کی سہولت کے پیش نظر تو اس کی توبہ اپنے نفس کے لیے ہوگی، نہ کہ اللہ کے لیے۔(تفسیر الثعلبی:۹/۳۵۰) ابوبکر مصری v نے فرمایا:توبہ نصوح مظالم کے لوٹانے یعنی حقوق والوں کے حقوق ادا کرنا، دعویداروں سے حقوق معاف کروانا، اور طاعات پر مداومت کرنے کو کہتے ہیں۔ رابعہ بصریہ xنے کہا:ایسی توبہ جس میں گناہ کی طرف واپس لوٹنے کا خیال نہ ہو۔ ذوالنون مصری v نے کہا: توبہ نصوح کی تین علامتیں ہیں:۱:۔۔۔قلت ِکلام۔۲:۔۔۔قلت ِ طعام۔۳:۔۔۔ قلت ِ منام۔ شقیق بلخی v نے کہا کہ: توبہ نصوح کرنے والا بکثرت اپنے نفس پر ملامت کرے اور ندامت اس سے کبھی جدا نہ ہو ،تاکہ وہ گناہوں کی آفتوں سے سلامتی کے ساتھ نجات پاسکے۔ سری سقطی v نے کہاکہ: توبہ نصوح ایمان والوں کو اصلاحِ نفس کی فہمائش کیے بغیر نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ جس کی توبہ درست قرار پائی تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ سب لوگ اس کی طرح توبہ نصوح کرنے والے ہوں۔(تفسیر الثعلبی:۹/۳۵۰) جنید بغدادی v نے فرمایا: توبہ نصوح یہ ہے کہ وہ گناہوں کوایسے بھول جائے کہ پھر ان کا تذکرہ بھی نہ کرے،کیوں کہ جس کی توبہ درست قرار پاتی ہےوہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی وہ اللہ کے ماسوا کو بھول گیا۔ سھل تستری v نے فرمایا: توبہ نصوح اہل سنت والجماعت کی توبہ کا نام ہے، اس لیے کہ بدعتی کی کوئی توبہ نہیں،حضور a کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ اللہ نے ہر صاحب بدعت کو توبہ کرنے سے محجوب کردیا ہے۔ فتح موصلی v کہتے ہیں کہ: اس کی تین علامتیں ہیں… نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنا۔ ۲:…بکثرت رونا۔ ۳:… بھوک اور پیاس کی مشقت کو برداشت کرنا، یعنی قلت ِطعام و شراب۔ (الکشف والبیان :۹/۳۵۱) حضرت عمر q سے توبہ نصوح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایاکہ آدمی برے عمل سے توبہ کرے اور پھر کبھی اس کی طرف لوٹ کر نہ جائے۔ حضرت حسن v نے فرمایا: توبہ نصوح یہ ہے کہ تو گناہ سے ویسے ہی نفرت کر جیسے تو نے اس سے محبت کی اور جب تجھے یاد آئے تو اس سے توبہ و استغفار کر۔(تفسیرابن کثیر:۸/۱۶۸) ابو بکر وراق v نے کہا :توبہ نصوح یہ ہے کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو جائے، جیسا کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوںنے توبہ کی تھی۔(تفسیر القرطبی:۸/۲۸۷) ابو عبد اللہ v کہتے ہیں کہ: دس چیزوں کا نام توبہ نصوح ہے:۱:… جہل سے نکلنا، ۲:… اپنے فعل پر نادم ہونا، ۳:… خواہشات سے دوری اختیار کرنا، ۴:… سوال کیے جانے والے نفس کی پکڑ کا یقین، ۵:… ناجائز معاملات کی تلافی کرنا، ۶:…ٹوٹے ہوئے رشتوں کا جوڑنا، ۷:…جھوٹ کو ساقط کرنا، ۸:… برے دوست کو چھوڑنا، ۹:…معصیت سے خلوت اختیار کرنا، ۱۰:…غفلت کے طریق سے عدول کرنا۔ (حقائق التفسیر للسلّمي:۲/۳۳۷) علامہ شبیر احمد عثمانی v لکھتے ہیں کہ: توبہ نصوح سے مراد صاف دل کی توبہ ہے، وہ یہ ہے کہ دل میں پھر اس گناہ کا خیال نہ رہے، اگر توبہ کے بعد انہی خرافات کا خیال پھر آیا تو سمجھو کہ توبہ میں کچھ کسر رہ گئی ہے اور گناہ کی جڑ دل سے نہیں نکلی، رزقنا اللّٰہ منھا حظًا وافرًابفضلہ و عونہ وھو علٰی کل شئیئٍ قدیر۔(تفسیر عثمانی، سورۃ التحریم : ۸) باعتبارِ وقت و زمانہ کے توبہ کی اقسام باعتبارِ وقت و زمانہ کے توبہ کی دو قسمیں ہیں :ایک یہ کہسانسیں اکھڑنے کے بعد کی جانے والی توبہ کاکوئی اعتبار نہیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الْآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُوْلَـئِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا أَلِیْمًا‘‘ ۔(النساء :۱۸) ترجمہ:’’اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کیے جاتے ہیںبرے کام، یہاں تک کہ جب سامنے آجائے ان میں سے کسی کی موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں اب،اور نہ ایسوں کی توبہ جو مرتے ہیں حالت کفر میں، ان کے لیے ہم نے تیار کیا ہے عذاب درد ناک۔ (ترجمہ از شیخ الہندؒ) رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا : ’’إنّ اللّٰہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر ‘‘۔ (سنن الترمذي، کتاب الدعوات، رقم:۳۵۳۷) ترجمہ:’’بے شک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس کی روح گلے تک نہ پہنچے (یعنی جب تک اس کی سا نسیں نہ اکھڑ جائیں)‘‘۔ توبہ کی دوسری قسم وقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ تمام مخلوق کی توبہ اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہونے لگے اور جب سورج مغرب سے طلوع ہو نے لگ جائے تو پھراس وقت کسی کی بھی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ حضو ر a نے فرمایا :’’من تاب قبل أن تطلع الشمس من مغربھا تاب اللّٰہ علیہ ‘‘۔۔۔۔ یعنی ’’جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائیں گے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعائ،رقم:۶۸۶۱)

https://mahmoodahmadofficial.com/بارگاہِ-الہٰی-کے…بندوں-کے-وسیلے-س/