فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب: فرشتوں مشورے کلام

فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب: فرشتوں مشورے کلام

فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب:

 

یاد رہے کہ اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کسی سے مشورہ کی حاجت ہو،البتہ یہاں خلیفہ بنانے کی خبر فرشتوں کوظاہری طور پرمشورے کے انداز میں دی گئی ۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلےاپنے ما تحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ اس کام سے متعلق ان کے ذہن میں کوئی خلش ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے ۔

 

اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے مشورہ کرنے کا حکم دیا،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰٰ ہے:’’ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔(اٰل عمران: ۱۵۹)

 

اور انصار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ‘‘ اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے۔(شورٰی: ۳۸)

 

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگااور جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہوگا اور جس نے میانہ روی کی وہ کنگال نہیں ہوگا۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵ / ۷۷، الحدیث: ۶۶۲۷)

 

{اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ:کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا ۔}اس کلام سے فرشتوں کا مقصد اعتراض کرنا نہ تھا بلکہ اس سے اپنے تعجب کا اظہار اور خلیفہ بنانے کی حکمت دریافت کرنا تھا اور انسانوں کی طرف فسادپھیلانے کی جو انہوں نے نسبت کی تو اس فساد کا علم انہیں یا توصراحت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا تھا یا انہوں نے لوح محفوظ سے پڑھا تھا اوریا انہوں نے جِنّات پر قیاس کیا تھا کیونکہ وہ زمین پر آباد تھے اور وہاں فسادات کرتے تھے ۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱ / ۲۸۲، ملتقطاً)

 

فرشتے کیا ہیں ؟

فرشتے نوری مخلوق ہیں ،گناہوں سے معصوم ہیں ، اللہ تعالٰی کے معززومکرم بندے ہیں ، کھانے پینے اور مرد یا عورت ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت جلدنمبر 1 کے صفحہ90سے ’’ملائکہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

 

{اِنِّیْۤ اَعْلَمُ:بیشک میں زیادہ جانتاہوں۔} فرشتوں کے جواب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے کیونکہ خلیفہ بنانے میں میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں۔ بات یہ ہے کہ انہی انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے، اولیاء بھی اور علماء بھی اوریہ حضرات علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

 

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

 

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایاسچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔

 

ترجمۂ کنزالعرفان:اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادئیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔

 

{وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا:اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔} اللہ تعالٰی نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطورِ الہام کے آپ کو ان تمام چیزوں کے نام، کام، صفات، خصوصیات، اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۸۵-۲۸۶)

 

{اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ: مجھے ان کے نام بتاؤ۔ }تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ تم سے زیادہ علم والی کوئی مخلوق نہیں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام اختیار استعمال کرنا، کاموں کی تدبیر کرنااور عدل و انصاف کرناہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اسے اختیار دیا گیاہے اور جن کا اسے

فیصلہ کرنا ہے۔

فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب: فرشتوں مشورے کلام
فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب: فرشتوں مشورے کلام

https://mahmoodahmadofficial.com/کیا-اللہ-تعالیٰ-…-قادر-ہے-۔اللہ-2/

Leave a Comment