علم کے فضائل فضائل ومناقب ۔علم فضائل ومناقب
اس آیت میں اللہ تعالٰی نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرشتوں پرافضل ہونے کاسبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،تمہارااس حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالٰی کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہارااس حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہ

و یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔(ابن ماجہ،کتاب السنّۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلّمہ، ۱ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۱۹)
قَالُوْاسبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان:بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:(فرشتوں نے)عرض کی: (اے اللہ!)تو پاک ہے ۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا ، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔
{لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا: ہمیں صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علمی فضل و کمال کو د یکھ کر فرشتوں نے بارگاہِ الہٰی میں اپنے عِجز کا اعتراف کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کاسوال اعتراض کرنے کیلئے نہ تھا بلکہ حکمت معلوم کرنے کیلئے تھا اور اب انہیں اِنسان کی فضیلت اور اس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے۔اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں۔
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان:فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:(پھر اللہ نے)فرمایا: اے آدم!تم انہیں ان اشیاء کے نام بتادو۔ تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تو(اللہ نے)فرمایا :(اے فرشتو!)کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔
اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ:میں تمہاری ظاہری و پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔} فرشتوں نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی اور خون ریزی کرے گا اورجو بات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ خلافت کے مستحق وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے زیادہ علم و فضل والی کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا۔آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علوم و کمالات میں زیادوتی ہے۔ (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۳، ۱ / ۲۹۰-۲۹۱)
https://mahmoodahmadofficial.com/فرشتوں-سے-مشورے-…-میں-کلام-کرنے-ک/