بارگاہِ الہٰی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے: بارگاہ مقبول دعا

    بارگاہِ الہٰی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے: بارگاہ مقبول دعابارگاہِ الہٰی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے: بارگاہ مقبول دعا
    اس روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے ،بَحق فلاں اور بَجاہ ِ فلاں کے الفاظ سے دعا مانگنا جائز اور حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔یہ یاد رہے کہ اللہ تعالٰی پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اور اسی فضل و کرم والے حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے ۔ اس طرح کا حق صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسے بخاری میں ہے ’’مَنْ اٰمَنَ بِاﷲِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَحَقًّاعَلَی اﷲِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ‘‘جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہعَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔(بخاری،کتاب الجھادوالسیر، باب درجات المجاھدین فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰) بعد خلقه في مدة حياته في الدنيا و بعد موته في مدة البرزخ.
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل ہر حال میں جائز ہے، چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق سے پہلے ہو یا تخلیق کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی میں ہو یا وصال کے بعد حیاتِ برزخی میں ہو۔
    حجة الله البالغة میں ہے:
    و من أدب الدعاء تقديم الثناء إلى الله و التوسل بنبي الله ليستجاب. (٢/ ٦)
    ترجمہ: دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ستائش کی جائے، اور اللہ کے نبی کے وسیلہ سے دعا کی جائے؛ تاکہ قبولیت کا شرف حاصل ہو۔
    البتہ کسی نبی یا ولی سے حاجت مانگنا شرک ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کی کتاب “اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم” اور فتاوی بینات کی جلد دوم)
    مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ توسل بالاعمال اور توسل بالذوات دونوں علمائے دیوبند سمیت جمہور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہیں، قرآنِ کریم واحادیثِ مبارکہ اور کتبِ فقہ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، علمائے دیوبند کی کتاب “المہند علی المفند ” میں بھی واضح طور پر یہی عقیدہ مذکور ہے، لہذا توسل کا کلی طور پر انکار یا نبی اور ولی میں فرق کرنا درست نہیں، تاہم دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ واجب یا ضروری نہیں، توسل کا انکار کیے بغیر بلاوسیلہ دعا مانگنا بھی جائز ہے، اور توسل والی دعا کی قبولیت کا اللہ کے ذمے لازم سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلمبارگاہِ الہٰی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے: بارگاہ مقبول دعا

Leave a Comment