انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو ظالم کہنے والے کاحکم:انبیاءظالم حکم
انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو ظالم کہنے والے کا حکم : انبیاء ظالم حکم
یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ظالم کہنا گستاخی اورتوہین ہے اورجو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ظالم کہے وہ کافر ہے ۔ اللہ تعالٰی مالک اور مولیٰ ہے، وہ اپنے مقبول بندوں کے بارے میں جو چاہے فرمائے ،کسی دوسرے کی کیا مجال کہ وہ انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے متعلق کوئی خلافِ ادب کلمہ زبان پر لائے اور اللہ تعالٰی کے اس طرح کے خطابات کو اپنی جرأت و بیباکی کی دلیل بنائے۔اس بات کویوں سمجھیں کہ بادشاہ کے ماں باپ بادشاہ کو ڈانٹیں اور یہ دیکھ کر شاہی محل کا جمعدار بھی بادشاہ کو انہی الفاظ میں ڈانٹنے لگے تو اس احمق کا کیا انجام ہوگا؟ ہمیں تو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور محبوبانِ خدا کی تعظیم و توقیر اور ادب و اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور ہم پر یہی لازم ہے۔
انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کی عصمت کا بیان:
یہ بھی یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہوتے ہیں اوران سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا،ان کے معصوم ہونے پربیسیوں دلائل ہیں۔ یہاں پر صرف 3 دلائل درج کئے جاتے ہیں۔
(1)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے اور مخلص بندے ہیں ،جیساکہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ (ص: ۴۶)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔
اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ‘‘ (یوسف: ۲۴)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے ۔
اور جو اللہ تعالٰی کے مخلص بندے ہیں شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ اس کا یہ اعتراف خود قرآن مجید میں موجود ہے:
’’ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۸۲) اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ‘‘(ص: ۸۲-۸۳)
ترجمۂ کنزالعرفان:اس نے کہا: تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر شیطان کا داؤ نہیں چلتا کہ وہ ان سے گناہ یا کفر کرا دے۔
(2)…گناہ کرنے والا مذمت کئے جانے کے لائق ہے ،جبکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالٰی نے مطلقاً ارشاد فرما دیاکہ
’’وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمصطفٰینَ الْاَخْیَارِ‘‘ (ص: ۴۷)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔
(3)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں اور جب فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتا تو ضروری ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بھی گناہ صادر نہ ہوکیونکہ ا گر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بھی گناہ صادر ہو تو وہ فرشتوں سے افضل نہیں رہیں گے ۔

https://mahmoodahmadofficial.com/حضرت-آدم-عَلَیْہ…لصَّلٰوۃُوَالسَّ/